امریکہ ایران کا جوہری مواد قبضے میں لینے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے
یکم نومبر 2025 کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں جوہری تنصیبات کا دورہ کیا تھا۔،
امریکہ میں پارٹنر متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری مواد کو محفوظ بنانے یا اسے قبضے لینے کے مختلف طریقوں پر کام کر رہی ہے۔
دو ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اس کام کے لیے جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ کو استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایلیٹ ملٹری یونٹ ہے جسے اکثر انتہائی حساس آپریشنز کا کام سونپا جاتا ہے۔
ایک اور ذریعے نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک ایسی کسی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہیی کہ تیاریاں کرنا پینٹاگون کا کام ہے۔
خیال رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے آغاز کے بعد سے بارہا ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی ایران سختی سے تردید کرتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں