دہشت گرد نیٹ ورک میں لڑکیوں کا جنسی استحصال بڑے بڑے نام سامنے اگئے
ڈاکٹر صبیحہ کا نام سامنے اگیا
تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے کاروائی کر کے خودکش بمبار لڑکی کو گرفتار کر لیا
لڑکی کا کہنا تھا کہ مجھے ڈاکٹر صبیحہ نے بہلا پھسلا کر میری کمزور معاشی حالات کا فائدہ اٹھایا اور شدت پسندی کی طرف دھکیلا
یاد رہے کہ ڈاکٹر صبیحہ پر لڑکیوں کو۔ ہلا پھسلا کر شدت پسندی کی طرف لے کر جانے کا الزام بھی ہیی اعترافی بیان میں لڑکے نے کہا میرا نام لائبہ ہے مجھے گھر میں اور گاؤں کے لوگ فرزانہ کے نام سے جانتے ہیں پچھلے سال میرا رابطہ ٹی ٹی پی کے کمانڈر ابراہیم قاضی سے ہوا کمانڈر ابراہیم نے مجھے خودکش حملہ کرنے کے لیے میری ذہن سازی کی اور مجھے تیار کیا میں ان کی تنظیمی باتوں سے متاثر ہو گئی اور خود کش حملہ کرنے کے لیے بھی تیار ہو گئی کمانڈر دل جان نے مجھ سے ملاقات کرنی تھی اور مجھے خود خوش حملے کے لیے خصدار بھیجنا تھا
لیکن ہزار پہنچنے پر مجھے گرفتار کر لیا گیا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں