برادر ملک‘ سے ’جوابی کارروائی‘ کی دھمکی تک: کیا ’بقا کی جدوجہد‘ میں ایران نے سعودی عرب سے طے پانے والا مصالحتی معاہدہ قربان کر دیا؟
گذشتہ سال جون میں، ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد سعودی عرب نے ایران کو اپنا “بھائی ملک” قرار دیا اور ساتھ ہی ان حملوں کو تہران کی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے سختی سے مذمت کی تھی۔
ادھر ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں گزشتہ 23 دنوں کے دوران تہران نے سعودی عرب سمیت اپنے کئی خلیجی ہمسایہ ممالک کی سمت سینکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسلامی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں سنہ 2023 میں چین کی ثالثی سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والا مصالحتی معاہدہ، جس کا مقصد سفارتی تعلقات کی بحالی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مرحلہ وار کم کرنا تھا، اب عملاً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔
19 مارچ کو سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا بیان بھی اسی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، جسے ایران کے حوالے سے سعودی عرب کے حالیہ مؤقف میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔اس بدلتی ہوئی صورتحال کے پسِ پردہ مزید کئی عوامل بھی کارفرما بتائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ کی طرف سے امریکہ کو فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینا دراصل ’جارحیت میں شمولیت‘ کے مترادف سمجھا جائے گا۔
ڈیاگو گارشیا بحیرۂ ہند میں واقع ایک جزیرہ ہے، جو سرسبز مناظر، سفید ریتلے ساحلوں اور چاروں طرف پھیلے نیلے پانی کی وجہ سے قدرتی حسن رکھتا ہے۔ تاہم یہ سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک انتہائی محدود علاقہ ہے جہاں عام شہریوں کے داخلے پر پابندی ہے، کیونکہ طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ یہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک اہم خفیہ فوجی اڈہ قائم ہے۔
یہ جزیرہ برطانیہ کے زیرِ انتظام ہے، تاہم اس کی ملکیت کے حوالے سے ماریشس اور برطانیہ کے درمیان طویل عرصے سے تنازع موجود رہا ہے۔
یاد رہے کہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے کی جانب درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے، تاہم یہ میزائل بحرِ ہند میں قائم امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
دوسری جانب برطانوی وزارتِ دفاع نے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے ڈیاگو گارشیا میں قائم امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کی جانب میزائل فائر کیے ہیں۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں