برادر ملک‘ سے ’جوابی کارروائی‘ کی دھمکی تک: کیا ’بقا کی جدوجہد‘ میں ایران نے سعودی عرب سے طے پانے والا مصالحتی معاہدہ قربان کر دیا؟

 

گذشتہ سال جون میں، ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد سعودی عرب نے ایران کو اپنا “بھائی ملک” قرار دیا اور ساتھ ہی ان حملوں کو تہران کی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے سختی سے مذمت کی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کا ابتدائی ردعمل تہران اور ریاض کے درمیان کشیدگی میں کمی کی جانب ایک مثبت اور اہم پیش رفت سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم صرف نو ماہ بعد صورتحال بدل گئی ہے۔ اب سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کشیدگی بڑھائی گئی تو اس کا جواب بھی اسی انداز میں دیا جائے گا، اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا رشتہ متاثر ہو کر تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

ادھر ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں گزشتہ 23 دنوں کے دوران تہران نے سعودی عرب سمیت اپنے کئی خلیجی ہمسایہ ممالک کی سمت سینکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسلامی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں سنہ 2023 میں چین کی ثالثی سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والا مصالحتی معاہدہ، جس کا مقصد سفارتی تعلقات کی بحالی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مرحلہ وار کم کرنا تھا، اب عملاً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔

19 مارچ کو سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا بیان بھی اسی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، جسے ایران کے حوالے سے سعودی عرب کے حالیہ مؤقف میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔اس بدلتی ہوئی صورتحال کے پسِ پردہ مزید کئی عوامل بھی کارفرما بتائے جا رہے ہیں۔


دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ کی طرف سے امریکہ کو فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینا دراصل ’جارحیت میں شمولیت‘ کے مترادف سمجھا جائے گا۔

ڈیاگو گارشیا بحیرۂ ہند میں واقع ایک جزیرہ ہے، جو سرسبز مناظر، سفید ریتلے ساحلوں اور چاروں طرف پھیلے نیلے پانی کی وجہ سے قدرتی حسن رکھتا ہے۔ تاہم یہ سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک انتہائی محدود علاقہ ہے جہاں عام شہریوں کے داخلے پر پابندی ہے، کیونکہ طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ یہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک اہم خفیہ فوجی اڈہ قائم ہے۔

یہ جزیرہ برطانیہ کے زیرِ انتظام ہے، تاہم اس کی ملکیت کے حوالے سے ماریشس اور برطانیہ کے درمیان طویل عرصے سے تنازع موجود رہا ہے۔

یاد رہے کہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے کی جانب درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے، تاہم یہ میزائل بحرِ ہند میں قائم امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

دوسری جانب برطانوی وزارتِ دفاع نے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے ڈیاگو گارشیا میں قائم امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کی جانب میزائل فائر کیے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیے جانے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، تاہم عملی طور پر یہ اہم سمندری گزرگاہ مکمل بند نہیں کی گئی۔ اسی دوران ایک پاکستانی جہاز سمیت تقریباً 99 تجارتی جہاز اس خطرناک راستے سے بحفاظت گزرنے میں کامیاب رہے۔

بحری ذرائع کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے اسے محدود اور کنٹرولڈ انداز میں کھلا رکھا۔ ایران کی جانب سے ایسے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی جو جنگ میں براہِ راست شامل ممالک سے تعلق نہیں رکھتے تھے یا جنہیں غیر جانبدار تصور کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے جہازوں سے پہلے ان کی شناخت، کارگو اور سفر کے روٹ سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی رہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزرنے والے زیادہ تر جہاز ایشیائی ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جن میں پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کی تجارتی شپنگ شامل تھی۔ ان جہازوں کو مخصوص سمندری راستوں کے ذریعے سفر کی ہدایت دی گئی تاکہ ممکنہ حملوں یا تصادم کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات کے باوجود عالمی توانائی اور تجارتی سپلائی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں تھا، اسی لیے محدود پیمانے پر شپنگ سرگرمیاں جاری رہیں۔ بعض جہازوں نے حفاظتی اقدامات کے طور پر اپنے سفر کے روٹس تبدیل کیے جبکہ کچھ نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی ٹریکنگ معلومات بھی محدود رکھیں۔

دوسری جانب علاقائی بحری افواج نے بھی اپنی تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کیے تاکہ ضروری سامان اور تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ بڑی تعداد میں جہاز گزرتے تھے، لیکن کشیدگی کے بعد شپنگ ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور صرف محدود تعداد میں جہاز ہی اس راستے کو استعمال کر سکے۔

یوں شدید کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی بلکہ سخت نگرانی اور مخصوص شرائط کے تحت عالمی تجارت جزوی طور پر جاری رہی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قاسم اور سلیمان کو والد سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، جمائما کی وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل

دہشت گرد نیٹ ورک میں لڑکیوں کا جنسی استحصال بڑے بڑے نام سامنے اگئے

افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، فیلڈ مارشل عاصم منیر