خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے دوران لوگوں نے کیا دیکھا: ’خود کو خطرے سے دور سمجھتے تھے، سوچا نہیں تھا یہ دن دیکھنا پڑے گا
عالیہ گذشتہ آٹھ برسوں سے اپنے شوہر اور دو بیٹیوں کے ساتھ دبئی ہلز کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔
انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ دبئی جیسے محفوظ ترین شہر پر بھی حملہ ہو سکتا ہے۔ آج کل وہ مسلسل دھماکوں کی آوازیں سن رہی ہیں، جن سے ان کے گھر کی کھڑکیاں لرز اٹھتی ہیں اور ان کی چھوٹی بیٹیاں سہم جاتی ہیں۔
بی بی سی اردو بات کرتے ہوئے عالیہ بتاتی ہیں کہ ’ہم نے زندگی میں کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا، دھماکوں کی آوازیں ’بہت خوفناک‘ ہیں۔‘
وہ اپنی بیٹیوں کو لے کر خوفزدہ ہیں اور انھیں کھڑکیوں سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں